10 اکتوبر، 2026، 2:17 PM

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی، عوام کا شدید احتجاج

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی، عوام کا شدید احتجاج

آذربائجان میں باحجاب طالبات اور اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکنے پر طلباء اور عوام نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آذربائیجان کی حکومت نے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لباس سے متعلق نئے ضوابط منظور کیے ہیں، جن میں سیکولرازم کے اصول کی پابندی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حجاب پہننے والی بعض طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روکنے پر تنازع جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 6 اکتوبر کو منظور ہونے والے قانون پر آذربائیجان کے وزیراعظم علی اسدوف نے دستخط کیے جس کے تحت اساتذہ کے لیے صاف ستھرا، سادہ اور پیشہ ورانہ ماحول کے مطابق لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خواتین اساتذہ کے لیے کوٹ اور پتلون، کوٹ اور اسکرٹ یا کوٹ اور لباس کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ اسکرٹ اور لباس کی لمبائی گھٹنوں تک یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔

اگرچہ ضابطے میں حجاب پر واضح پابندی کا ذکر نہیں، تاہم سیکولرازم کی شرط شامل کیے جانے سے باحجاب خواتین اساتذہ پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن کے مطابق بعض اساتذہ کو بھی اسکولوں میں داخلے سے روکا گیا ہے۔

یہ پیش رفت 21 ستمبر 2026 کو طالب علموں کے لباس سے متعلق ضوابط میں ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازع طالبات سے بڑھ کر اساتذہ تک پھیل گیا ہے۔

سرکاری اسکولوں میں حجاب سے متعلق پابندیوں اور باحجاب طالبات کو واپس بھیجے جانے کے خلاف دیگر طلباء نے بھی احتجاج کیا۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا کر، تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر اپنی باحجاب ساتھیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

حالیہ ہفتوں میں آذربائیجان کے سرکاری اسکولوں میں لباس کے ضوابط پر عمل درآمد ایک متنازع معاملہ بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حجاب پہننے کی وجہ سے بعض طالبات کو کلاسوں میں شرکت سے روک کر گھروں کو واپس بھیج دیا گیا، جس پر طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے اعتراض کیا۔

رپورٹ کے مطابق، بعض سرکاری اسکولوں میں حجاب سے متعلق پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور باحجاب طالبات کو اسکولوں کے دروازوں سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے تعلیم کے حق اور مذہبی آزادی سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔

ان واقعات کے بعد متعدد شہری تنظیموں، قانونی ماہرین اور شہریوں نے حجاب کی بنیاد پر طالبات کو تعلیم سے محروم کرنے کی مخالفت کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں سے قرہ باغ جنگ میں اپنے اعضا کھونے والے جنگی معذوروں اور شہدا کے اہل خانہ کے بچوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات نے عوامی ردعمل میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔

شہری تنظیموں اور مخالفین نے آذربائیجان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین میں درج حقوق کا تحفظ کرے، باحجاب طالبات کے لیے تعلیم تک رسائی یقینی بنائے اور مذہبی آزادی کی بنیاد پر اسکولوں میں داخلے سے روکنے کے عمل کو ختم کرے۔

News ID 1942010

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha